پرنٹ        دوست کو ارسال

مولاناجلال الدین رومی

مولاناجلال الدین رومی

مولانا جلال الدین رومی بلخی 1207ء ميں بلخ کے شہر ميں پيدا ہوئے ۔ اصل نام جلال الدین تھا لیکن مولانا رومی کے نام سے مشہور ہوئے۔ان کے والد بہاؤ الدین بڑے صاحب علم و فضل بزرگ تھے۔ ان کا وطن بلخ تھا اور یہیں مولانا رومی 1207ء بمطابق 604ھ میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم کے مراحل شیخ بہاولدین نے طے کرادیے اور پھر اپنے مرید سید برہان الدین کو جو اپنے زمانے کے فاضل علماء میں شمار کیے جاتے تھے مولاناکا معلم اور اتالیق بنادیا۔ اکثر علوم مولانا کو انہی سے حاصل ہوئے۔ اپنے والد کی حیات تک ان ہی کی خدمت میں رہے۔ والد کے انتقال کے بعد 639ھ میں شام کا قصد کیا ۔ ابتدا میں حلب کے مدرسہ حلاویہ میں رہ کر مولاناکمال الدین سے شرف تلمذ حاصل کیا۔

مولانا رومی اپنے دور کے اکابر علماء میں سے تھے۔ فقہ اور مذاہب کے بہت بڑے عالم تھے۔ لیکن آپ کی شہرت بطور ایک صوفی شاعر کے ہوئی۔ دیگرعلوم میں بھی آپ کو پوری دسترس حاصل تھی۔ دوران طالب علمی میں ہی پیچیدہ مسائل میں علمائے وقت مولانا کی طرف رجوع کرتے تھے۔ شاہ شمس تبریز مولانا کے پیر و مرشد تھے۔ مولانا کی شہرت سن کر سلجوقی سلطان نے انھیں اپنے پاس بلوایا۔ مولانا نے درخواست قبول کی اور قونیہ چلے گئے ۔وہ تقریباَ 30 سال تک تعلیم و تربیت میں مشغول رہے۔ جلال الدین رومی ؒ نے 3500 غزلیں 2000 رباعیات اور رزمیہ نظمیں لکھیں۔

مولانا کا سلسلہ اب تک قائم ہے۔ ابن بطوطہ نے اپنے سفرنامے میں لکھا ہے کہ ان کے روحانی سلسلے کے لوگ جلالیہ کہلاتے ہیں۔ چونکہ مولانا کا لقب جلال الدین تھا اس لیے ان کے انتساب کی وجہ سے یہ نام مشہور ہوا ہوگا ۔ لیکن آج کل ایشیائے کوچک ، شام ، مصر اور قسطنطنیہ میں اس سلسلے کو لوگ مولویہ بھی کہتے ہیں۔دوسری جنگ عظیم سے قبل بلقان، افریقہ اور ایشیا میں مولوی طریقت کے پیروکاروں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی۔ یہ لوگ نمد کی ٹوپی پہنتے ہیں جس میں جوڑ یا درز نہیں ہوتی ،اس سلسلے کے علماءاور مشائخ اس ٹوپی پر عمامہ باندھتے ہیں۔ خرقہ یا کرتہ کی بجائے ایک چنٹ دار پاجامہ ہوتاہے۔ ذکر و شغل کا یہ طریقہ ہے کہ حلقہ باندھ کر بیٹھتے ہیں۔ ایک شخص کھڑا ہو کر ایک ہاتھ سینے پر اور ایک ہاتھ پھیلائے ہوئے اللہ کے ذکر کے ساتھ جھومنا شروع کرتا ہے۔ اس حرکت میں آگے پیچھے بڑھنا یا ہٹنا نہیں ہوتا بلکہ ایک جگہ جم کر متصل چکر لگاتے ہیں۔ سماع کے وقت یہ لوگ دف بھی بجاتے ہیں۔

مولانا روم کی شخصيت نور ہدايت سے مالا مال تھی اور اسلامی کتب میں ایک معتبر شخصیت میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا قلب عشق الہی اور عشق نبی کی دولت سے معمور تھا ۔وہ انسانيت سے محبت کرنے والی عظيم شخصيات ميں ممتاز اور نماياں مقام رکھتے تھے۔ اور آج بھی مردہ دلوں ميں روحانی زندگی کی شمع روشن کر رہے ہيں۔مولانا روم نے بقیہ زندگی وہیں گذار کر تقریباَ 66 سال کی عمر میں سن 1273ء بمطابق 672ھ میں انتقال کرگئے۔ ان کا مزار قونیہ میں موجود ہے ۔

ان کی سب سے مشہور تصنیف ’’مثنوی مولانا روم‘‘ ہے۔ اس کے علاوہ ان کی ایک مشہور کتاب ’’فیہ مافیہ‘‘ بھی ہے۔
مثنوی مولانا روم آج بھی ہمارے مدارس کے طلبہ میں ذوق اور شوق سے پڑھائی جاتی ہے۔

مشہور یہ ہے کہ مولانا نے مثنوی کا چھٹا دفتر ناتمام چھوڑا تھا اور فرمایا تھا

باقی ایں گفتہ آیدبے زباں

درددل ہر کس کہ دارد نورجان

ترجمہ:"جس شخص کی جان میں نورہوگااس مثنوی کابقیہ حصہ اس کے دل میں خودبخود اتر جائیگا"

آپ کا کلام قرآن و حدیث کے عین مطابق ہے جس کی وجہ سے بہت سے علماء کرام نے مثنوی مولانا روم کے شرح بھی لکھی ہیں جو کہ بہت سی جلدوں میں موجود ہیں۔

ہمارے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال مولانا رومی سے بے حد متاثر تھے آپ ان کو اپنا روحانی مرشد بھی مانتے تھے۔اور آپ کی اردو اور فارسی شاعری میں مولانا رومی کی جھلک بھی ہمیں نظر آتی ہے۔

   

 

 


14:12 - 30/09/2020    /    نمبر : 757710    /    نمایش کی تعداد : 268



بندکریں




The official website of the President of the I.R. Iran

Read More

Ministry of Culture and Islamic Guidance

Read More

Islamic Culture and Relations Organization

Read More

The Office of the Supreme Leader,

Read More

Tehran Museum

Read More

Iranian Academy OF arts

Read More

Iranian Cultural Heritage,

Read More

ICRO Digital Library

Read More

Islamica

Read More

Iranology

Read More

educationiran

Read More

 

اسلامی جمہوریہ ایران کےثقافتی مراکز، 67 ترقی یافتہ ممالک کےساتھ ساتھ ، پاکستان کے مختلف شھروں سمیت پشاور میں ثقافت کےخدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ تمام ثقافتی مراکز، ایران کی اسلامی ثقافت و روابط کی آرگنائزیشن سے منسلک ہیں، جو ایک ثقافتی ادارے کے طور پر اسلامی جمہوریہ ایران  کے ثقافتی پروگراموں کی ہم آہنگی، نگرانی اور عمل درآمد کے ذمہ دار ہیں۔