پرنٹ        دوست کو ارسال

شب یلدا

ایرانی ثقافت میں " شب یلدا "

ایران میں " شب یلدا " یا " شب چلہ " ایرانی مہینے بنام " آذر " کی آخری رات ، سردیوں کی پہلی رات اور سال کی سب سے لمبی رات کو کہا جاتا ہے ۔اس رات کو ایرانی تاریخ و ثقافت میں بڑی اہمیت حاصل ہے اور اسے ایک تہوار کے طور پر منایا جاتا رہا ہے اور اب بھی ماضی کی طرح اس رات کو بھرپور انداز میں فارس تہذیب و ثقافت کے حامل علاقوں میں منایا جا رہا ہے ۔

لفظ " یلدا " دراصل سریانی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی " پیدائش " کے ہیں ۔ ایرانی سرزمین پر اس لفظ کو مسیحی لائے اور اس وقت سے لے کر اب تک یہی لفظ ایران میں را‏ئج ہے۔ اکیس دسمبر کا دن سال کا سب سے چھوٹا اور موسم خزاں کا آخری دن ہوتا ہے اور اسی طرح اس دن کے بعد آنے والی رات سال کی سب سے لمبی رات اور سردیوں کی سب سے پہلی رات ہوتی ہے ۔ اس کے بعد راتیں چھوٹی اور دن لمبے ہونا شروع ہو جاتے ہیں ۔ دراصل یہ بات اہل ایران کو ہزاروں سال پہلے ہی معلوم ہو چکی تھی ،اس لئے بہت سے اعتقادات ایرانیوں میں پیدا ہو گئے اور اس رات کے متعلق بعض لوگوں نے یہ خیال کرنا شروع کر دیا کہ یہ بہت ہی منحوس اور نجس رات ہے ۔ یہ رات چونکہ وقت کے لحاظ سے لمبی ہوتی ہے اسلئے اندھیرا زیاد دیر تک چھایا رہتا ہے جو زرتشت مذھب میں " اھریمن " کا مظہر اور شیطانی اور منحوس تصور کیا جاتا ہے ۔

قدیم زمانے میں چونکہ اہل ایران زرتشت مذھب کے پیروکار تھے اسی لئے ان کے اعتقادات پر مذھبی اثرات دکھائی دیتے تھے ۔ تاریکی کو " اہریمن " اور روشنی کو " یزدان " کی علامت سمجھا جاتا تھا ۔ ایرانی رسم و رواج میں آج بھی خاندان کے سارے لوگ ایک جگہ جمع ہو کر اس رات کو گزارتے ہیں ۔ چونکہ اس رات کو نجس اور نحوست والی رات تصور کیا جاتا ہے اس لئے لوگ چراغاں کرکے یا آگ جلا کر اس رات کو گزارتے ہیں تاکہ وہ اس رات کی نحوست اور شیطانی نقصانات سے محفوظ رہ سکیں ۔ اس عمل کو " چلہ بزرگ " یعنی بڑا چلہ کاٹنا بھی کہا جاتا ہے ۔

بعض اسلامی مآخذ کے مطابق یہ خیال کیا جاتا ہے کہ دراصل " شب یلدا " وہی رات ہے جب حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش ہوئی تھی اور یوں اس رات کو " شب میلاد مسیح " بھی سمجھا جاتا ہے ۔ ثعالبی اس حوالے سے لکھتا ہے کہ
" شب میلاد ، وہی رات ہے ، جس رات کو حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت ہوئی تھی اور اس رات کو بطور مثال سب سے لمبی رات کے پیش کیا جاتا ہے"
۔  اس سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ " میلاد " اور " یلدا " دراصل ایک ہی رات کو کہا جاتا ہے جو سال کی سب سے لمبی رات ہوتی ہے ۔ " یلدا " سریانی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی پیدائش کے ہیں اور اس لفظ کے مترادف لفظ جو عربی زبان میں رائج ہے وہ " میلاد " ہے ۔ بعض فارسی شعراء نے بھی اپنی شاعری میں "شب یلدا " اور " میلاد حضرت مسیح " کو جوڑ کر بیان کیا ہے ۔ مثال کے طور پر معزی کہتے ہیں کہ

 

 


ایزد دادار ، مھر و کین تو گوئی

از شب قدر آفرید و از شب یلدا

زان کہ بہ مھرت بود تقریب مومن

زان کہ بہ کیفیت بود تفاخر ترسا

شب یلدا کی رات چونکہ لمبی ہوتی ہے اس لیۓ بہت سے شعراء نے اس کے طویل ہونے کو محبوب کے ہجر کے دورانیے کے طویل ہونے سے تشبیہ دے کر شاعری میں نیا رنگ بھرا ہے تو بعض نے اس رات کی سیاہی کو اپنے محبوب کی سیاہ زلف سے تشبیہ دی ہے ۔ مثال کے طور پر

ما حال خویش بی سرو پا نوشتہ ام

روز فراق را شب یلدا نوشتہ ام

بہ آن سینہ ھمچو صبح بہار

بہ آن زلف چون شام یلدا قسم

بہت سے قدیم شاعروں نے بھی اپنے کلام میں " شب یلدا " کا ذکر کیا ہے یا اس لفظ کو اپنی شاعری میں استعمال کیا ہے جس سے ہمیں اس کی قدمت کا اندازہ ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پر عنصری کا ایک شعر ہے کہ


نور رویش تیرہ شب را روز نورانی کند

در دو چشمش روز روشن را شب یلدا کند

اسی طرح ناصر خسرو اپنے ایک شعر میں کہتا ہے کہ

بہ صاحب دولتی پیوند اگر نامی ھمی جویی

کہ از یک چاکری عیسی چنان معروف شد یلدا

حکیم سنائی ایک شعر میں کچھ یوں گویا ہیں :

ھمہ شب ھای غم آبستن روز طرب است

یوسف روز بہ چاہ شب یلدا بینید

شاعر مشرق حضرت علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ اپنے ایک شعر میں فرماتے ہیں

روز پھلوی شب یلدا زند

خویش را امروز بہ فردا زند

 

         

 

 


09:19 - 21/12/2020    /    نمبر : 761992    /    نمایش کی تعداد : 204



بندکریں




The official website of the President of the I.R. Iran

Read More

Ministry of Culture and Islamic Guidance

Read More

Islamic Culture and Relations Organization

Read More

The Office of the Supreme Leader,

Read More

Tehran Museum

Read More

Iranian Academy OF arts

Read More

Iranian Cultural Heritage,

Read More

ICRO Digital Library

Read More

Islamica

Read More

Iranology

Read More

educationiran

Read More

 

اسلامی جمہوریہ ایران کےثقافتی مراکز، 67 ترقی یافتہ ممالک کےساتھ ساتھ ، پاکستان کے مختلف شھروں سمیت پشاور میں ثقافت کےخدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ تمام ثقافتی مراکز، ایران کی اسلامی ثقافت و روابط کی آرگنائزیشن سے منسلک ہیں، جو ایک ثقافتی ادارے کے طور پر اسلامی جمہوریہ ایران  کے ثقافتی پروگراموں کی ہم آہنگی، نگرانی اور عمل درآمد کے ذمہ دار ہیں۔