پرنٹ        دوست کو ارسال

دختر رسول حضرت فاطمہ پوری دنیا کی خواتین کے لئے نمونہ عمل

13 جمادی الاول شہادت بنت رسولِ خدا (ص) حضرت فاطمتہ الزہراء سلام اللہ علیہا

اسلامی جمہوریہ ایران اور دنیا کے گوشہ وکنار میں تیرہ جمادی الاول سے جو ایک روایت کے مطابق شہزادی کونین کی تاریخ شہادت ہے ایام فاطمیہ کی مجالس کا آغاز ہوجاتا ہے اور تین جمادی الثانی تک جو دیگر روایتوں کے مطابق شہزادی کونین کی تاریخ شہادت ہے یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ تاہم اس مرتبہ کورونا وائرس کے پھیلاو اور طبی اصولوں کی وجہ سے ایام فاطمیہ کی مجالس کو محدود کردیا گیا ہے۔

حضرت فاطمتہ زہرا سلام اللہ علیہا بیس جمادی الثانی بعثت کے پانچویں سال مکہ مکرمہ میں اس دنیا میں تشریف لائیں اور سرکار دوعالم کی آغوش میں پرورش پائی اور اعلی الہی تعلیمات کی حامل بنیں۔ شہزادی کونین علوم الہی کے سرچشمے سے سیراب ہوئی تھیں اور یوں آپ خداوند عالم کے مقربین میں سے تھیں۔ ایک روایت کے مطابق تیرہ جمادی الاول گیارہ ہجری قمری اور ایک روایت کے مطابق تین جمادی الثانی گیارہ ہجری قمری کو صرف اٹھارہ سال کی عمرمیں آپ شہید ہوئیں۔

پیغمبراسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی لخت جگر، شہزادی کونین حضرت فاطمہ زہرا (س) کے یوم شہادت کی مناسبت سے خانہ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران پشاور، حضرت فاطمہ زہرا (س) کے تمام چاہنے والوں کی خدمت میں بادل مغموم تعزیت و تسلیت پیش کرتا ہے۔



17:09 - 29/12/2020    /    نمبر : 762565    /    نمایش کی تعداد : 19



بندکریں




The official website of the President of the I.R. Iran

Read More

Ministry of Culture and Islamic Guidance

Read More

Islamic Culture and Relations Organization

Read More

The Office of the Supreme Leader,

Read More

Tehran Museum

Read More

Iranian Academy OF arts

Read More

Iranian Cultural Heritage,

Read More

ICRO Digital Library

Read More

Islamica

Read More

Iranology

Read More

educationiran

Read More

 

اسلامی جمہوریہ ایران کےثقافتی مراکز، 67 ترقی یافتہ ممالک کےساتھ ساتھ ، پاکستان کے مختلف شھروں سمیت پشاور میں ثقافت کےخدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ تمام ثقافتی مراکز، ایران کی اسلامی ثقافت و روابط کی آرگنائزیشن سے منسلک ہیں، جو ایک ثقافتی ادارے کے طور پر اسلامی جمہوریہ ایران  کے ثقافتی پروگراموں کی ہم آہنگی، نگرانی اور عمل درآمد کے ذمہ دار ہیں۔